حدیث نمبر: 3322
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ، أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ: "أَنَّ سُلَيْمًا الْغَسَّانِيَّ مَاتَ وَهُوَ ابْنُ عَشْرٍ، أَوْ ثِنْتَيْ عَشْرَةَ سَنَةً، فَأَوْصَى بِبِئْرٍ لَهُ قِيمَتُهَا ثَلاثُونَ أَلْفًا"، فَأَجَازَهَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ، قَالَ أَبُو مُحَمَّدٍ: النَّاسُ يَقُولُونَ: عَمْرُو بْنُ سُلَيْمٍ .محمد الیاس بن عبدالقادر
ابوبکر سے مروی ہے کہ سلیم غسانی کا انتقال ہوا اس وقت ان کی عمر دس یا بارہ سال تھی، انہوں نے اپنے کنویں کی وصیت کی جس کی قیمت تیس ہزار تھی، سیدنا عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ نے اس کو جائز قرار دیا۔ امام دارمی رحمہ اللہ نے کہا: سلیم غسانی کو لوگ عمرو بن سلیم کہتے ہیں (یعنی صحیح عمرو بن سلیم ہے نہ کہ سلیم غسانی)۔