حدیث نمبر: 3320
حَدَّثَنَا يَزِيدُ، عَنْ هِشَامٍ الدَّسْتَوَائِيِّ، عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: "يَجُوزُ وَصِيَّةُ الصَّبِيِّ في ماله في الثلث، فما دونه، وإنما يمنعه وليه ذلك في الصحة رهبة الفاقة عليه، فأما عند الموت، فليس له أن يمنعه".محمد الیاس بن عبدالقادر
ابراہیم رحمہ اللہ نے کہا: بچے کی اپنے مال میں تہائی یا اس سے کم کی وصیت جائز ہے، اور بحالتِ صحت اس کا ولی اس بچے کو فقر و فاقہ کے ڈر سے وصیت سے روک سکتا ہے، لیکن موت کے وقت اس کو وصیت سے روکنے کا اختیارنہیں ہے۔