سنن دارمي
من كتاب الوصايا— وصیت کے مسائل
باب في الرَّجُلِ يُوصِي لِغَيْرِ قَرَابَتِهِ: باب: کوئی آدمی اپنے غیر رشتے دار کے لئے وصیت کرے تو ؟
حدیث نمبر: 3300
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا أَبُو شِهَابٍ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ الْحَسَنِ، قَالَ: "إِذَا أَوْصَى الرَّجُلُ فِي قَرَابَتِهِ، فَهُوَ لِأَقْرَبِهِمْ بِبَطْنٍ: الذَّكَرُ وَالْأُنْثَى فِيهِ سَوَاءٌ".محمد الیاس بن عبدالقادر
حسن رحمہ اللہ نے کہا: جب کوئی آدمی کسی قرابت دار کے لئے وصیت کرے تو وہ قبیلے میں سب سے قریب کے لئے ہے اور مرد و عورت اس میں سب برابر ہیں۔