سنن دارمي
من كتاب الوصايا— وصیت کے مسائل
باب في الرَّجُلِ يُوصِي لِغَيْرِ قَرَابَتِهِ: باب: کوئی آدمی اپنے غیر رشتے دار کے لئے وصیت کرے تو ؟
حدیث نمبر: 3299
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، حَدَّثَنَا شَيْبَةُ بْنُ هِشَامٍ الرَّاسِبِيُّ، وَكَثِيرُ بْنُ مَعْدَانَ، قَالَا: سَأَلْنَا سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ"الرَّجُلِ يُوصِي فِي غَيْرِ قَرَابَتِهِ، فَقَالَ سَالِمٌ: هِيَ حَيْثُ جَعَلَهَا، قَالَ: فَقُلْنَا: إِنَّ الْحَسَنَ يَقُولُ: يُرَدُّ عَلَى الْأَقْرَبِينَ، فَأَنْكَرَ ذَلِكَ، وَقَالَ قَوْلًا شَدِيدًا".محمد الیاس بن عبدالقادر
شیبہ بن ہشام راسبی اور کثیر بن معدان دونوں نے کہا: ہم نے سالم بن عبداللہ سے پوچھا: کوئی آدمی اپنے غیر رشتے دار کے لئے وصیت کرتا ہے؟ سالم نے کہا: جیسے کہا نافذ ہو گی، ہم نے کہا: حسن رحمہ اللہ تو ایسی وصیت کو رشتے داروں کی طرف لوٹا دیتے ہیں، اس پر سالم نے سخت نکیر کی۔