سنن دارمي
من كتاب الوصايا— وصیت کے مسائل
باب الْوَصِيَّةِ لِلْوَارِثِ: باب: وارث کے لئے وصیت کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 3295
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا أَبُو تُمَيْلَةَ، عَنْ الْحُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ، عَنْ يَزِيدَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، وَالْحَسَنِ: إِنْ تَرَكَ خَيْرًا الْوَصِيَّةُ لِلْوَالِدَيْنِ وَالأَقْرَبِينَ سورة البقرة آية 180، فكانت الوصية كذلك، حتى نسختها آية الميراث".محمد الیاس بن عبدالقادر
عکرمہ اور حسن رحمہما اللہ سے مروی ہے کہ اس آیت: «إِنْ تَرَكَ خَيْرًا الْوَصِيَّةُ لِلْوَالِدَيْنِ وَالْأَقْرَبِينَ . . . . . .» [بقره: 180/2] کے بموجب وصیت جاری و ساری تھی کہ آیت الميراث: «يُوصِيكُمُ اللَّهُ . . . . . .» [نساء 11/4] نے وصیت کو وارثین کے لئے منسوخ کر دیا۔
وضاحت:
(تشریح حدیث 3294)
یعنی اب والدین اور قرابت داروں کے لئے جو وارث ہوں وصیت کرنا جائز نہیں رہا اور یہ حکم منسوخ ہوگیا۔
ان تمام آثار و احادیث سے واضح ہوا کہ وارث کے لئے وصیت کرنا جائز نہیں ہے۔
یعنی اب والدین اور قرابت داروں کے لئے جو وارث ہوں وصیت کرنا جائز نہیں رہا اور یہ حکم منسوخ ہوگیا۔
ان تمام آثار و احادیث سے واضح ہوا کہ وارث کے لئے وصیت کرنا جائز نہیں ہے۔