حدیث نمبر: 3294
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا وَرْقَاءُ، عَنْ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: "كَانَ الْمَالُ لِلْوَلَدِ، وَكَانَتْ الْوَصِيَّةُ لِلْوَالِدَيْنِ وَالْأَقْرَبِينَ، فَنَسَخَ اللَّهُ مِنْ ذَلِكَ مَا أَحَبَّ، فَجَعَلَ لِلذَّكَرِ مِثْلَ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ، وَجَعَلَ لِلْأَبَوَيْنِ لِكُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا السُّدُسَ وَالثُّلُثَ، وَجَعَلَ لِلْمَرْأَةِ الثُّمُنَ وَالرُّبُعَ، وَلِلزَّوْجِ الشَّطْرَ وَالرُّبُعَ".
محمد الیاس بن عبدالقادر

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: (مرنے والے) کا مال اولاد کے لئے ہوتا تھا اور وصیت والدین و قرابت داروں کےلئے خاص تھی، اس میں سے جو اللہ نے چاہا منسوخ کر دیا، چنانچہ مرد کے لئے عورت کا ڈبل حصہ رکھا اور والدین میں سے ہر ایک کے لئے چھٹا اور تیسرا حصہ مقرر کر دیا، اور بیوی کے لئے آٹھواں اور چوتھا حصہ اور شوہر کے لئے آدھا اور چوتھا حصہ مقرر فرمایا۔

وضاحت:
(تشریح احادیث 3285 سے 3294)
ان تمام حصص کی تفصیل آیت: «﴿يُوصِيكُمُ اللّٰهُ فِي أَوْلَادِكُمْ .....﴾ [النساء: 11]» میں موجود ہے اور تفصیل کتاب الفرائض میں گذر چکی ہے۔
حوالہ حدیث سنن دارمي / من كتاب الوصايا / حدیث: 3294
درجۂ حدیث تحقیق (حسین سلیم أسد الدارانی): إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 3305]
تخریج حدیث اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [بخاري 2747، 6739] ، [البيهقي 263/6] و [ناسخ القران 187]