حدیث نمبر: 3282
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا أَبُو زُبَيْدٍ، حَدَّثَنَا حُصَيْنٌ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: "الْمُرَّانِ: الْإِمْسَاكُ فِي الْحَيَاةِ، وَالتَّبْذِيرُ عِنْدَ الْمَوْتِ" . قَالَ أَبُو مُحَمَّد: يُقَالُ: مُرٌّ فِي الْحَيَاةِ، وَمُرٌّ عِنْدَ الْمَوْتِ.
محمد الیاس بن عبدالقادر

عبداللہ نے کہا: دو چیزیں کڑوی ہیں: زندگی میں رکے رہنا اور موت کے وقت اسراف سے کام لینا۔ امام دارمی رحمہ اللہ نے کہا: کہا جاتا ہے زندگی میں بھی کڑوا اور موت کے وقت بھی کڑوا۔

وضاحت:
(تشریح حدیث 3281)
«الْمُرَيَّان: مُرَّىٰ» کی تثنیہ ہے صغریٰ و کبریٰ کی طرح فعلیٰ کے وزن پر، اس سے مقصد یہ ہے کہ زندگی و تندرستی میں تو آدمی مال کو دبائے رکھے، صدقہ و خیرات سے دور بھاگے، اور جب موت نظر آنے لگے تو پھر صدقہ و خیرات میں زیادتی سے کام لے۔
حوالہ حدیث سنن دارمي / من كتاب الوصايا / حدیث: 3282
درجۂ حدیث تحقیق (حسین سلیم أسد الدارانی): إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 3293]
تخریج حدیث اس اثر کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [مجمع الزوائد 7185]