سنن دارمي
من كتاب الوصايا— وصیت کے مسائل
باب إِذَا أَوْصَى الرَّجُلُ إِلَى الرَّجُلِ وَهُوَ غَائِبٌ: باب: کوئی آدمی ایسے شخص کے لئے وصیت کرے جو غائب ہو
حدیث نمبر: 3276
حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، قَالَ: سَأَلْتُ الْحَسَنَ، وَمُحَمَّدًا عَنِ"الرَّجُلِ يُوصِي إِلَى الرَّجُلِ، قَالَا: نَخْتَارُ أَنْ يَقْبَلَ".محمد الیاس بن عبدالقادر
ایوب (السختیانی) سے مروی ہے کہ میں نے حسن اور محمد رحمہما اللہ سے پوچھا: کوئی آدمی کسی کے لئے وصیت کرے تو؟ دونوں نے کہا: اس کو وصیت قبول کر لینی چاہیے۔