سنن دارمي
من كتاب الوصايا— وصیت کے مسائل
باب مَنْ قَالَ الْكَفَنُ مِنْ جَمِيعِ الْمَالِ: باب: کفن کا خرچ تمام مال میں سے ہو گا
حدیث نمبر: 3274
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ مُسْهِرٍ، عَنْ إِسْمَاعِيل، عَنْ الْحَسَنِ، قَالَ: "الْكَفَنُ مِنْ وَسَطِ الْمَالِ، يكفن على قدر ما كان يلبس في حياته، ثم يخرج الدين، ثم الثلث".محمد الیاس بن عبدالقادر
حسن رحمہ اللہ نے کہا: کفن (میت کے) مال سے ہی دیا جائے گا، اور جس طرح اپنی زندگی میں پہنتا تھا ویسا ہی کفن ہو گا، پھر قرض نکالا جائے گا، اور اس کے بعد تہائی مال کی وصیت نافذ کی جائے گی۔
وضاحت:
(تشریح احادیث 3270 سے 3274)
میت کے ترکے کی اس ترتیب سے تقسیم ہوگی: پہلے کفن دفن کا انتظام، پھر جو بچے اس میں سے قرض ادا کیا جائے، اس کے بعد اگر کوئی وصیت ہے وہ جاری کی جائے گی، پھر ورثاء میں مال تقسیم کیا جائے گا۔
والله اعلم۔
میت کے ترکے کی اس ترتیب سے تقسیم ہوگی: پہلے کفن دفن کا انتظام، پھر جو بچے اس میں سے قرض ادا کیا جائے، اس کے بعد اگر کوئی وصیت ہے وہ جاری کی جائے گی، پھر ورثاء میں مال تقسیم کیا جائے گا۔
والله اعلم۔