سنن دارمي
من كتاب الوصايا— وصیت کے مسائل
باب الرُّجُوعِ عَنِ الْوَصِيَّةِ: باب: وصیت سے رجوع کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 3247
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ ابْنِ الْمُبَارَكِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ قَتَادَةَ، قَالَ: قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ: "مِلَاكُ الْوَصِيَّةِ آخِرُهَا".محمد الیاس بن عبدالقادر
قتادہ رحمہ اللہ سے مروی ہے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: آخری وصیت ہی اصل ہے۔
وضاحت:
(تشریح احادیث 3244 سے 3247)
ان آثار سے ثابت ہوا کہ وصیت میں رد و بدل کرنا جائز ہے، اور جو آخری وصیت ہوگی وہی قابلِ تنفيذ مانی جائے گی، اس سے قبل کی وصیت منسوخ ہو جائے گی۔
ان آثار سے ثابت ہوا کہ وصیت میں رد و بدل کرنا جائز ہے، اور جو آخری وصیت ہوگی وہی قابلِ تنفيذ مانی جائے گی، اس سے قبل کی وصیت منسوخ ہو جائے گی۔