سنن دارمي
من كتاب الوصايا— وصیت کے مسائل
باب الرُّجُوعِ عَنِ الْوَصِيَّةِ: باب: وصیت سے رجوع کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 3245
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ حَمَّادٍ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَبِيعَةَ، عَنْ الشَّرِيدِ بْنِ سُوَيْدٍ، قَالَ: قَالَ عُمَرُ: "يُحْدِثُ الرَّجُلُ فِي وَصِيَّتِهِ مَا شَاءَ، وَمِلَاكُ الْوَصِيَّةِ آخِرُهَا" . قَالَ أَبُو مُحَمَّد: هَمَّامٌ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ عَمْرٍو، وَبَيْنَهُمَا قَتَادَةُ.محمد الیاس بن عبدالقادر
شرید بن سوید سے مروی ہے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: آدمی اپنی وصیت میں جو چاہے (رد و بدل) اضافہ کر سکتا ہے اور آخری وصیت ہی اصل ہے۔ امام دارمی رحمہ اللہ نے کہا: ہمام نے عمرو بن شعیب سے سماع نہیں کیا اور ان دونوں کے درمیان قتادہ رحمہ اللہ ہیں۔