سنن دارمي
من كتاب الوصايا— وصیت کے مسائل
باب الرُّجُوعِ عَنِ الْوَصِيَّةِ: باب: وصیت سے رجوع کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 3244
حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ حَمَّادٍ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، قَالَ: حَدَّثَنِي قَتَادَةُ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ: "أَنَّ أَبَاهُ أَعْتَقَ رَقِيقًا لَهُ فِي مَرَضِهِ، ثُمَّ بَدَا لَهُ أَنْ يَرُدَّهُمْ وَيُعْتِقَ غَيْرَهُمْ، قَالَ: فَخَاصَمُونِي إِلَى عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَرْوَانَ، فَأَجَازَ عِتْقَ الْآخِرِينَ، وَأَبْطَلَ عِتْقَ الْأَوَّلِينَ".محمد الیاس بن عبدالقادر
عمرو بن دینار نے بیان کیا کہ ان کے والد نے اپنی بیماری کے دوران اپنے غلام کو آزاد کر دیا، پھر ان کو محسوس ہوا کہ انہیں لوٹا لیں (یعنی آزاد نہ کریں) اور دوسرے غلاموں کو آزاد کر دیں تو ان غلاموں نے عبدالملک بن مروان کے رو برو مجھ سے جھگڑا کیا تو عبدالملک نے دوسرے فریق کی آزادی کو جائز قرار دیا اور پہلے والوں کی آزادی منسوخ کر دی۔
وضاحت:
(تشریح احادیث 3241 سے 3244)
گرچہ اس اثر کی سند ضعیف ہے لیکن صحیح مسئلہ یہ ہی ہے کہ آدمی اپنے جیتے جی کسی بھی وصیت میں رد و بدل کر سکتا ہے اور جو آخری وصیت ہوگی وہی قابلِ عمل و قابلِ تنفيذ ہوگی۔
واللہ اعلم۔
گرچہ اس اثر کی سند ضعیف ہے لیکن صحیح مسئلہ یہ ہی ہے کہ آدمی اپنے جیتے جی کسی بھی وصیت میں رد و بدل کر سکتا ہے اور جو آخری وصیت ہوگی وہی قابلِ عمل و قابلِ تنفيذ ہوگی۔
واللہ اعلم۔