سنن دارمي
من كتاب الوصايا— وصیت کے مسائل
باب مَا يَجُوزُ لِلْوَصِيِّ وَمَا لاَ يَجُوزُ: باب: وصی کے لئے کیا جائز ہے اور کیا ناجائز ہے ؟
حدیث نمبر: 3239
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّلْتِ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ إِسْمَاعِيل، عَنْ الْحَسَنِ، قَالَ: "وَصِيُّ الْيَتِيمِ يَأْخُذُ لَهُ بِالشُّفْعَةِ، وَالْغَائِبُ عَلَى شُفْعَتِهِ".محمد الیاس بن عبدالقادر
اسماعیل سے مروی ہے حسن رحمہ اللہ نے کہا: یتیم کا وصی اس کے لئے حق شفعہ لے گا اور غائب کا وصی جس کو شفعہ کی وصیت کی گئی ہو وہ بھی حق شفعہ لے گا۔
وضاحت:
(تشریح احادیث 3235 سے 3239)
حقِ شفعہ مکان، دکان، زمین میں پڑوسی اور شریک کا یہ حق ہوتا ہے کہ اگر ان کو بیچنا چاہے تو پہلے شریک یا پڑوسی سے پوچھ لے، پہلے خریدنے کا حق اس کا ہے، جب اس کو حاجت یا استطاعت نہ ہو تو دوسرا کوئی بھی شخص خرید سکتا ہے۔
مذکور بالا اثر میں یتیم کے وصی یا ولی کو اختیار ہوگا کہ وہ شفعہ کا مطالبہ کرے اور حقِ شفعہ یتیم کے لئے اس کو دینا ہوگا۔
حقِ شفعہ مکان، دکان، زمین میں پڑوسی اور شریک کا یہ حق ہوتا ہے کہ اگر ان کو بیچنا چاہے تو پہلے شریک یا پڑوسی سے پوچھ لے، پہلے خریدنے کا حق اس کا ہے، جب اس کو حاجت یا استطاعت نہ ہو تو دوسرا کوئی بھی شخص خرید سکتا ہے۔
مذکور بالا اثر میں یتیم کے وصی یا ولی کو اختیار ہوگا کہ وہ شفعہ کا مطالبہ کرے اور حقِ شفعہ یتیم کے لئے اس کو دینا ہوگا۔