سنن دارمي
من كتاب الوصايا— وصیت کے مسائل
باب مَا يَجُوزُ لِلْوَصِيِّ وَمَا لاَ يَجُوزُ: باب: وصی کے لئے کیا جائز ہے اور کیا ناجائز ہے ؟
حدیث نمبر: 3238
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ: "فِي مَالِ الْيَتِيمِ يَعْمَلُ بِهِ الْوَصِيُّ إِذَا أَوْصَى إِلَى الرَّجُلِ".محمد الیاس بن عبدالقادر
منصور (ابن المعتمر) سے روایت ہے ابراہیم رحمہ اللہ نے کہا: یتیم کے مال میں وصی (جس کو وصیت کی گئی ہے) کام (تجارت وغیرہ) کرے گا جب کسی آدمی نے اس کو وصیت کی ہو۔