سنن دارمي
من كتاب الوصايا— وصیت کے مسائل
باب مَا يَجُوزُ لِلْوَصِيِّ وَمَا لاَ يَجُوزُ: باب: وصی کے لئے کیا جائز ہے اور کیا ناجائز ہے ؟
حدیث نمبر: 3237
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُبَارَكِ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، قَالَ: "الْوَصِيُّ أَمِينٌ فِي كُلِّ شَيْءٍ، إِلَّا فِي الْعِتْقِ، فَإِنَّ عَلَيْهِ أَنْ يُقِيمَ الْوَلَاءَ".محمد الیاس بن عبدالقادر
یحییٰ بن ابی کثیر نے کہا: وصی سوائے غلام آزاد کرنے کے ہر چیز کا امین ہے، اور وہ ولاء قائم کر سکتا ہے۔