سنن دارمي
من كتاب الوصايا— وصیت کے مسائل
باب مَا يَجُوزُ لِلْوَصِيِّ وَمَا لاَ يَجُوزُ: باب: وصی کے لئے کیا جائز ہے اور کیا ناجائز ہے ؟
حدیث نمبر: 3235
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: "الْوَصِيُّ أَمِينٌ فِيمَا أُوصِيَ إِلَيْهِ بِهِ".محمد الیاس بن عبدالقادر
مغیرہ سے مروی ہے ابراہیم رحمہ اللہ نے کہا: وصی اس چیز کا امین ہے جس کی اس کے لئے وصیت کی جا رہی ہے۔
وضاحت:
(تشریح حدیث 3234)
وصی اس شخص کو کہا جاتا ہے جس کے نام سے وصیت کی جائے، یا جس کو وصیت کی تنفیذ کا مکلّف بنایا جائے، نیز وصیت کرنے والے کو بھی وصی کہتے ہیں لیکن یہاں مراد پہلا معنی ہے۔
وصی اس شخص کو کہا جاتا ہے جس کے نام سے وصیت کی جائے، یا جس کو وصیت کی تنفیذ کا مکلّف بنایا جائے، نیز وصیت کرنے والے کو بھی وصی کہتے ہیں لیکن یہاں مراد پہلا معنی ہے۔