سنن دارمي
من كتاب الوصايا— وصیت کے مسائل
باب الْوَصِيَّةِ بِأَقَلَّ مِنَ الثُّلُثِ: باب: ایک تہائی سے کم کی وصیت کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 3234
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: "كَانَ السُّدُسُ أَحَبَّ إِلَيْهِمْ مِنْ الثُّلُثِ".محمد الیاس بن عبدالقادر
منصور (ابن المعتمر) سے مروی ہے ابراہیم رحمہ اللہ نے کہا: لوگوں کے نزدیک چھٹا حصہ (وصیت کے لئے) تہائی حصے سے زیاد محبوب تھا۔
وضاحت:
(تشریح احادیث 3231 سے 3234)
ان تمام آثار سے واضح ہوا کہ مرنے والا اپنے مال میں سے ثلث سے کم ہی وصیت کرے، کیوں کہ تہائی ایک حد ہے، اس سے کم کی وصیت ہونی چاہیے۔
ان تمام آثار سے واضح ہوا کہ مرنے والا اپنے مال میں سے ثلث سے کم ہی وصیت کرے، کیوں کہ تہائی ایک حد ہے، اس سے کم کی وصیت ہونی چاہیے۔