سنن دارمي
من كتاب الوصايا— وصیت کے مسائل
باب الْوَصِيَّةِ بِأَقَلَّ مِنَ الثُّلُثِ: باب: ایک تہائی سے کم کی وصیت کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 3230
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ إِسْحَاق بْنِ سُوَيْدٍ، عَنْ الْعَلَاءِ بْنِ زِيَادٍ: أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، فَقَالَ: "إِنَّ وَارِثِي كَلَالَةٌ، فَأُوصِي بِالنِّصْفِ ؟ قَالَ: لَا، قَالَ: فَالثُّلُثِ ؟ قَالَ: لَا، قَالَ: فَالرُّبُع ؟ قَالَ: لَا، قَالَ: فَالْخُمُس ؟ قَالَ: لَا، حَتَّى صَارَ إِلَى الْعُشْرِ، فَقَالَ: أَوْصِ بِالْعُشْرِ".محمد الیاس بن عبدالقادر
علاء بن زیاد سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے سیدنا عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ سے پوچھا: میرا وارث کلالہ (لا ولد) ہے، کیا میں نصف (آدھے مال) کی وصیت کر سکتا ہوں؟ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: نہیں، اس نے کہا: ایک تہائی کی؟ فرمایا: نہیں، اس نے کہا: چوتھائی؟ فرمایا: نہیں، کہا: خمس کی (پانچویں حصے کی)، فرمایا: نہیں، یہاں تک کہ وہ دسویں حصے تک پہنچا تو انہوں نے فرمایا: ہاں، دسویں حصے کی وصیت کر سکتے ہو۔