سنن دارمي
من كتاب الوصايا— وصیت کے مسائل
باب في الذي يُوصِي بِأَكْثَرَ مِنَ الثُّلُثِ: باب: ایک تہائی مال سے زیادہ کی وصیت کا بیان
حدیث نمبر: 3223
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: سَأَلْتُ الحَكَمَ، وَحَمَّادًا: "عَنِ الْأَوْلِيَاءِ يُجِيزُونَ الْوَصِيَّةَ، فَإِذَا مَاتَ لَمْ يُجِيزُوا ؟ قَالَا: لَا يَجُوزُ".محمد الیاس بن عبدالقادر
شعبہ نے کہا: میں نے حکم اور حماد سے اولیاء (وارثین) کے بارے میں پوچھا کہ وہ وصیت کی اجازت دیتے ہیں اور جب (آدمی) مر جائے تو وصیت نہیں مانتے؟ دونوں نے کہا: (یہ) جائز نہیں ہے۔
وضاحت:
(تشریح احادیث 3221 سے 3223)
یعنی ثلث سے زیادہ کی وصیت جائز نہیں ہے۔
یعنی ثلث سے زیادہ کی وصیت جائز نہیں ہے۔