سنن دارمي
من كتاب الوصايا— وصیت کے مسائل
باب في الذي يُوصِي بِأَكْثَرَ مِنَ الثُّلُثِ: باب: ایک تہائی مال سے زیادہ کی وصیت کا بیان
حدیث نمبر: 3222
حَدَّثَنَا أَبُو زَيْدٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ: "فِي رَجُلٍ أَوْصَى وَالْوَرَثَةُ شُهُودٌ مُقِرُّونَ، فَقَالَ: لَا يَجُوزُ" . قَالَ أَبُو مُحَمَّد: يَعْنِي: إِذَا أَنْكَرُوا بَعْدُ.محمد الیاس بن عبدالقادر
منصور نے ابراہیم رحمہ اللہ سے روایت کیا، کوئی آدمی (ثلث سے زیادہ) وصیت کرے اور اس کے وارثین شاہد ہوں اور اس کا اقرار کریں؟ ابراہیم رحمہ اللہ نے کہا: (ایسی وصیت) جائز نہیں ہے۔ امام دارمی رحمہ اللہ نے کہا: اس کا مطلب یہ ہے کہ بعد میں وہ ناپسند کریں تو ایسی وصیت کی تنفیذ نہ ہو گی۔