حدیث نمبر: 3212
أَخْبَرَنَا سَهْلُ بْنُ حَمَّادٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي يُونُسَ، عَنْ قَزَعَةَ، قَالَ: قِيلَ لِهَرِمِ بْنِ حَيَّانَ: أَوْصِهْ، قَالَ: "أُوصِيكُمْ بِالْآيَاتِ الْأَوَاخِرِ مِنْ سُورَةِ النَّحْلِ، وَقَرَأَ ابْنُ حَيَّانَ: ادْعُ إِلَى سَبِيلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ إِلَى قَوْلِهِ: وَالَّذِينَ هُمْ مُحْسِنُونَ سورة النحل آية 125 - 128".محمد الیاس بن عبدالقادر
قزعہ سے مروی ہے، ہرم بن حیان سے کہا گیا وصیت کیجئے، تو انہوں نے کہا: میں تمہیں سورہ نحل کی آخری آیات (پڑھنے) کی وصیت کرتا ہوں، اور ابن حیان نے «ادْعُ إِلَى سَبِيلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ» سے «وَالَّذِينَ هُمْ مُحْسِنُونَ» تک یہ آیات پڑھیں۔
وضاحت:
(تشریح احادیث 3209 سے 3212)
ان آیات کا ترجمہ یہ ہے: "اپنے رب کی راہ کی طرف لوگوں کو حکمت اور اچھی نصیحت کے ساتھ بلایئے اور ان سے بہترین طریقے سے گفتگو کیجئے، یقیناً آپ کا رب اپنی راہ سے بہکنے والوں کو بھی بخوبی جانتا ہے اور راه یافتہ لوگوں سے بھی بخوبی واقف ہے، اور اگر بدلہ لو بھی تو بالکل اتنا ہی جتنا صدمہ تمہیں پہنچایا گیا ہو، اور اگر صبر کر لو تو بے شک صابروں کے لئے یہ ہی بہتر ہے۔
آپ صبر کریں، بغیر توفیقِ الٰہی آپ صبر کر ہی نہیں سکتے اور ان کے حال پر رنجیدہ نہ ہوں، اور جو مکر و فریب یہ کرتے رہتے ہیں ان سے دل برداشتہ نہ ہوں، یقین جانو کہ الله تعالیٰ پرہیزگاروں اور نیکوکاروں کے ساتھ ہے۔
"
ان آیات کا ترجمہ یہ ہے: "اپنے رب کی راہ کی طرف لوگوں کو حکمت اور اچھی نصیحت کے ساتھ بلایئے اور ان سے بہترین طریقے سے گفتگو کیجئے، یقیناً آپ کا رب اپنی راہ سے بہکنے والوں کو بھی بخوبی جانتا ہے اور راه یافتہ لوگوں سے بھی بخوبی واقف ہے، اور اگر بدلہ لو بھی تو بالکل اتنا ہی جتنا صدمہ تمہیں پہنچایا گیا ہو، اور اگر صبر کر لو تو بے شک صابروں کے لئے یہ ہی بہتر ہے۔
آپ صبر کریں، بغیر توفیقِ الٰہی آپ صبر کر ہی نہیں سکتے اور ان کے حال پر رنجیدہ نہ ہوں، اور جو مکر و فریب یہ کرتے رہتے ہیں ان سے دل برداشتہ نہ ہوں، یقین جانو کہ الله تعالیٰ پرہیزگاروں اور نیکوکاروں کے ساتھ ہے۔
"