حدیث نمبر: 319
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّلْتِ، حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ هُوَ ابْنُ أَبِي الْأَسْوَدِ، عَنْ الْحَارِثِ بْنِ حَصِيرَةَ، عَنْ أَبِي صَادِقٍ الْأَزْدِيِّ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ نَاجِذٍ، قَالَ: قَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: "كُونُوا فِي النَّاسِ كَالنَّحْلَةِ فِي الطَّيْرِ: إِنَّهُ لَيْسَ مِنْ الطَّيْرِ شَيْءٌ إِلَّا وَهُوَ يَسْتَضْعِفُهَا، وَلَوْ يَعْلَمُ الطَّيْرُ مَا فِي أَجْوَافِهَا مِنْ الْبَرَكَةِ، لَمْ يَفْعَلُوا ذَلِكَ بِهَا، خَالِطُوا النَّاسَ بِأَلْسِنَتِكُمْ وَأَجْسَادِكُمْ، وَزَايِلُوهُمْ بِأَعْمَالِكُمْ وَقُلُوبِكُمْ، فَإِنَّ لِلْمَرْءِ مَا اكْتَسَبَ، وَهُوَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مَعَ مَنْ أَحَبَّ".محمد الیاس بن عبدالقادر
ابوصادق نے ربیعہ بن ناجذ سے روایت کیا کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تم لوگوں کے درمیان ایسے رہو جیسے پرندوں میں شہد کی مکھی رہتی ہے کہ ہر پرندہ اسے ضعیف و ناتواں سمجھتا ہے، اور اگر پرندے یہ جان لیں کہ اس کے پیٹ میں کیسی برکت ہے تو وہ اس کو حقیر نہ جانیں، لوگوں سے اپنی زبان، اجسام کے ساتھ میل ملاپ رکھو اور اپنے اعمال و قلوب کے ساتھ علاحدگی رکھو کیونکہ آدمی کے لئے وہی ہے جو اس نے کمایا، اور وہ قیامت کے دن اس کے ساتھ ہو گا جس سے اس نے محبت کی۔