سنن دارمي
من كتاب الفرائض— وراثت کے مسائل کا بیان
باب مَا لِلنِّسَاءِ مِنَ الْوَلاَءِ: باب: کیا ولاء میں عورتوں کا بھی حق ہے ؟
حدیث نمبر: 3182
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ فِي امْرَأَةٍ مَاتَتْ، وَتَرَكَتْ بَنِيهَا، فَوَرِثُوهَا مَالًا وَمَوَالِيَ، قَالَ: "يَرْجِعُ الْوَلَاءُ إِلَى عَصَبَةِ الْمَرْأَةِ".محمد الیاس بن عبدالقادر
خالد الحذاء سے مروی ہے: ابوقلابہ نے کہا: ایک عورت مر گئی اور اس نے اپنے بچے چھوڑے جو اس کے مال کے وارث ہوئے اور غلام بھی چھوڑے، پھر اس کے لڑکے بھی فوت ہو گئے، ابوقلابہ نے کہا: ایسی صورت میں غلاموں کا حق میراث عورت کے عصبہ کی طرف جائے گا۔ (یعنی بھائی وغیرہ جن کا حصہ شریعت کے فرائض میں مقرر نہیں اور وہ باقی بچے حصے کے حق دار ہوں گے)۔