سنن دارمي
من كتاب الفرائض— وراثت کے مسائل کا بیان
باب مَا لِلنِّسَاءِ مِنَ الْوَلاَءِ: باب: کیا ولاء میں عورتوں کا بھی حق ہے ؟
حدیث نمبر: 3180
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، عن مُعَاذٌ، عَنْ أَشْعَثَ، عَنْ الْحَسَنِ، قَالَ: "لَا تَرِثُ النِّسَاءُ مِنْ الْوَلَاءِ إِلَّا مَا أَعْتَقْنَ، أَوْ أَعْتَقَ مَنْ أَعْتَقْنَ، إِلَّا الْمُلَاعَنَةُ، فَإِنَّهَا تَرِثُ مَنْ أَعْتَقَ ابْنُهَا، وَالَّذِي انْتَفَى مِنْهُ أَبُوهُ".محمد الیاس بن عبدالقادر
حسن رحمہ اللہ نے کہا: عورتیں ولاء کی وارث نہ ہوں گی سوائے ان عورتوں کے جنہوں نے اس (غلام) کو آزاد کیا یا جس غلام کو انہوں نے آزاد کیا اس نے (کسی کو) آزاد کیا (اور) سوائے ملاعنہ (لعان کرنے والی عورتوں) کے کیوں کہ وہ اس کی وارث ہو گی جس کو اس کے لڑکے نے آزاد کیا، جس لڑکے سے اس کے باپ نے انکار کر دیا ہو (کہ یہ لڑکا میرا نہیں ہے)۔