سنن دارمي
من كتاب الفرائض— وراثت کے مسائل کا بیان
باب مَا لِلنِّسَاءِ مِنَ الْوَلاَءِ: باب: کیا ولاء میں عورتوں کا بھی حق ہے ؟
حدیث نمبر: 3178
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عُمَرَ، وَعَلِيٍّ، وَزَيْدٍ، أَنَّهُمْ قَالُوا: "الْوَلَاءُ لِلْكُبْرِ، وَلَا يَرِثُونَ النِّسَاءَ مِنْ الْوَلَاءِ إِلَّا مَا أَعْتَقْنَ، أَوْ كَاتَبْنَ".محمد الیاس بن عبدالقادر
ابراہیم رحمہ اللہ سے مروی ہے سیدنا عمر، سیدنا علی اور سیدنا زید رضی اللہ عنہم نے کہا: ولاء (حق وراثت) بڑوں کا ہے، اور عورتوں کو یہ حضرات ولاء کا وارث نہیں مانتے تھے، سوائے اس کے جس کو وہ خود آزاد کریں یا مقررہ رقم پر آزاد کرنے کا مکاتبہ کریں۔