سنن دارمي
من كتاب الفرائض— وراثت کے مسائل کا بیان
باب مِيرَاثِ السَّائِبَةِ: باب: آزاد کردہ غلام کی میراث کا بیان
حدیث نمبر: 3152
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَنْبَأَنَا سُلَيْمَانُ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، قَالَ: قَالَ عُمَرُ: "الصَّدَقَةُ وَالسَّائِبَةُ لِيَوْمِهِمَا، أَوْ لِوَقْتِهِمَا".محمد الیاس بن عبدالقادر
ابوعثمان نے کہا: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: صدقہ اور سائبہ (آزاد شده غلام) دونوں اپنے دن کے لئے ہیں۔
وضاحت:
(تشریح احادیث 3150 سے 3152)
یعنی جس نے ثواب و اجر کے لئے صدقہ کیا اور غلام آزاد کئے تو قیامت کے دن اس کا آزاد کرنے والے کو پورا پورا اجر و ثواب ملے گا، جیسا کہ عبدالرزاق کی روایت میں یہ اضافہ ہے (یعنی: «يوم القيامة» ) بعض روایات میں ہے «لقومهما» اور بعض روایات میں ہے «لوقتها» غالباً یہ تصحیفات میں سے ہے۔
واللہ اعلم وعلمہ اتم۔
یعنی جس نے ثواب و اجر کے لئے صدقہ کیا اور غلام آزاد کئے تو قیامت کے دن اس کا آزاد کرنے والے کو پورا پورا اجر و ثواب ملے گا، جیسا کہ عبدالرزاق کی روایت میں یہ اضافہ ہے (یعنی: «يوم القيامة» ) بعض روایات میں ہے «لقومهما» اور بعض روایات میں ہے «لوقتها» غالباً یہ تصحیفات میں سے ہے۔
واللہ اعلم وعلمہ اتم۔