سنن دارمي
من كتاب الفرائض— وراثت کے مسائل کا بیان
باب في مِيرَاثِ وَلَدِ الزِّنَا: باب: ولد الزنا کے میراث پانے کا بیان
حدیث نمبر: 3139
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي بَكْرُ بْنُ مُضَرَ، عَنْ عَمْرٍو يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ، عَنْ بُكَيْرٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، قَالَ: "أَيُّمَا رَجُلٍ أَتَى إِلَى غُلَامٍ يَزْعُمُ أَنَّهُ ابْنٌ لَهُ، وَأَنَّهُ زَنَى بِأُمِّهِ، وَلَمْ يَدَّعِ ذَلِكَ الْغُلَامَ أَحَدٌ، فَهُوَ يَرِثُهُ". قَالَ بُكَيْرٌ: وَسَأَلْتُ عُرْوَةَ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ مِثْلَ قَوْلِ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ وَقَالَ عُرْوَةُ: بَلَغَنَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: "الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ، وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ".محمد الیاس بن عبدالقادر
سلیمان بن یسار نے کہا: جو آدمی بھی کسی لڑکے کے پاس آئے اور یہ گمان رکھے کہ وہ اسی کا لڑکا ہے، اور اس نے لڑکے کی ماں سے زنا کیا تھا، اور اس لڑکے کے باپ ہونے کا دوسرا کوئی دعویٰ نہ کرے تو وہ اس لڑکے کا وارث ہو گا۔ بکیر نے کہا: میں نے عروة سے اس بارے میں پوچھا تو انہوں نے بھی سلیمان بن یسار کی طرح جواب دیا، اور عروہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اولاد فراش (یعنی بستر والے) کی ہے، اور زانی کے لئے پتھر ہیں (یعنی رجم)۔“