سنن دارمي
مقدمه— مقدمہ
باب مَنْ قَالَ الْعِلْمُ الْخَشْيَةُ وَتَقْوَى اللَّهِ: باب: اس کا بیان کہ علم خشیت اور اللہ کا تقویٰ ہے
حدیث نمبر: 313
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ بُرْقَانَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، قَالَ: سَأَلَهُ رَجُلٌ عَنْ شَيْءٍ مِنْ الْأَهْوَاءِ، فَقَالَ: "عَلَيْكَ بِدِينِ الْأَعْرَابِيِّ، وَالْغُلَامِ فِي الْكُتَّابِ، وَالْهَ عَمَّا سِوَى ذَلِكَ"، قَالَ أَبُو مُحَمَّدٍ: كَثُرَ تَنَقُّلُهُ، أَيْ: يَنْتَقِلُ مِنْ رَأْيٍ إِلَى رَأْيٍ.محمد الیاس بن عبدالقادر
جعفر بن برقان سے مروی ہے عمر بن عبدالعزيز رحمہ اللہ سے کسی شخص نے خواہشات کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے جواب دیا: اعرابی اور غلام کے دین کو لازم پکڑو، اور جو اس کے ماسوا ہے اسے بھول جاؤ۔ امام دارمی نے کہا: «كثر تنقله» سے مراد: ایک رائے سے دوسری رائے کی طرف منتقل ہونا ہے۔
وضاحت:
(تشریح احادیث 311 سے 313)
ان تمام روایات اور احادیث سے معلوم ہوا کہ عالمِ دین کو باعمل، متواضع، مخلص اور باوقار ہونا چاہئے، غرور، گھمنڈ، ہٹ دھرمی، خودغرضی، فضول قسم کی قیل و قال سے اسے دور رہنا چاہئے۔
ان تمام روایات اور احادیث سے معلوم ہوا کہ عالمِ دین کو باعمل، متواضع، مخلص اور باوقار ہونا چاہئے، غرور، گھمنڈ، ہٹ دھرمی، خودغرضی، فضول قسم کی قیل و قال سے اسے دور رہنا چاہئے۔