سنن دارمي
من كتاب الفرائض— وراثت کے مسائل کا بیان
باب فَرَائِضِ الْمَجُوسِ: باب: مجوس کے لئے میراث کے مسائل کا بیان
حدیث نمبر: 3121
حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ، قَالَ: "يَرِثُ مِنْ الْجَانِبِ الَّذِي يَصْلُحُ، وَلَا يَرِثُ مِنْ الْجَانِبِ الَّذِي لَا يَصْلُحُ".محمد الیاس بن عبدالقادر
حماد بن ابی سلیمان نے کہا: دو نسب میں جس جانب سے نسب صحیح ہو وہ وارث ہو گا، اور جو نسب صحیح نہ ہو وہ وارث نہ ہو گا۔
وضاحت:
(تشریح حدیث 3120)
مثال کے طور پر ماں، بہن یا بیٹی سے نکاح کیا ہے تو ماں کی نسبت صحیح ہے بیوی ہونا صحیح نہیں، تو ماں کی حیثیت سے میراث پائے گی بیوی کی حیثیت سے نہیں، اسی طرح بہن اور بیٹی ہے۔
والله اعلم۔
مثال کے طور پر ماں، بہن یا بیٹی سے نکاح کیا ہے تو ماں کی نسبت صحیح ہے بیوی ہونا صحیح نہیں، تو ماں کی حیثیت سے میراث پائے گی بیوی کی حیثیت سے نہیں، اسی طرح بہن اور بیٹی ہے۔
والله اعلم۔