حدیث نمبر: 3120
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: "إِذَا اجْتَمَعَ نَسَبَانِ، وُرِّثَ بِأَكْبَرِهِمَا، يَعْنِي الْمَجُوسَ".
محمد الیاس بن عبدالقادر

امام زہری رحمہ اللہ نے کہا: جب مجوس کے دو نسب ایک ساتھ جمع ہو جائیں تو جو بڑا ہو گا وہی وارث ہو گا۔

وضاحت:
(تشریح حدیث 3119)
اسلامی حکومت میں اگر مجوسی رہتے ہوں تو ان کے درمیان میراث اس طرح تقسیم کی جائے گی کہ جو نسب میں مرنے والے کے زیادہ قریب ہوگا وہی میراث میں حصہ دار ہوگا، مثلاً کسی آدمی (مجوسی) کی زوجیت میں اس کی ماں یا بہن ہو اور اس سے بیٹا یا بیٹی بھی پیدا ہو جائے، وہ بیٹا یا بیٹی اقرب الى النسب ہونے کی وجہ سے وارث ہوں گے، بعض کے نزدیک دوسرے لوگ محجوب ہوں گے اور بعض کے نزدیک دونوں قرابت داروں کو حصہ دیا جائے گا۔
تفصیل کے لئے دیکھئے: [المغنى لابن قدامه، كتاب الفرائض: 166/9]۔
حوالہ حدیث سنن دارمي / من كتاب الفرائض / حدیث: 3120
درجۂ حدیث تحقیق (حسین سلیم أسد الدارانی): إسناده صحيح إلى الزهري، [مكتبه الشامله نمبر: 3129]
تخریج حدیث اس اثر کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 11467] ، [البيهقي 260/6]