سنن دارمي
مقدمه— مقدمہ
باب مَنْ قَالَ الْعِلْمُ الْخَشْيَةُ وَتَقْوَى اللَّهِ: باب: اس کا بیان کہ علم خشیت اور اللہ کا تقویٰ ہے
حدیث نمبر: 312
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، قَالَ: كَتَبَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ إِلَى أَهْلِ الْمَدِينَةِ: "أَنَّهُ مَنْ تَعَبَّدَ بِغَيْرِ عِلْمٍ، كَانَ مَا يُفْسِدُ أَكْثَرَ مِمَّا يُصْلِحُ، وَمَنْ عَدَّ كَلَامَهُ مِنْ عَمَلِهِ، قَلَّ كَلَامُهُ إِلَّا فِيمَا يَعْنِيهِ، وَمَنْ جَعَلَ دِينَهُ غَرَضًا لِلْخُصُومَاتِ، كَثُرَ تَنَقُّلُهُ".محمد الیاس بن عبدالقادر
عمر بن عبدالعزيز رحمہ اللہ نے اہل مدینہ کو لکھا کہ جو شخص بنا علم عبادت کرے (یا عبادت کے لئے علاحدگی اختیار کرے) وہ اصلاح سے زیادہ بگاڑ پھیلائے گا، اور جو اپنے کلام کا عمل سے موازنہ کرے تو اس کا کلام بقدر ضرورت ہو جائے گا، اور جو اپنے دین کو جھگڑوں کا نشانہ بنائے اس کا تنقل زیادہ ہو جائے گا۔