سنن دارمي
مقدمه— مقدمہ
باب مَنْ قَالَ الْعِلْمُ الْخَشْيَةُ وَتَقْوَى اللَّهِ: باب: اس کا بیان کہ علم خشیت اور اللہ کا تقویٰ ہے
حدیث نمبر: 311
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ أَبِي حَكِيمٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ، يَقُولُ: "مَنْ جَعَلَ دِينَهُ غَرَضًا لِلْخُصُومَاتِ، أَكْثَرَ التَّنَقُّلَ".محمد الیاس بن عبدالقادر
اسماعیل بن ابی حکیم نے کہا: میں نے عمر بن عبدالعزیز کو سنا، وہ فرماتے تھے: جس نے اپنے دین کو جھگڑوں کا نشانہ بنایا (اس کا) تنقل زیادہ ہو گا۔
وضاحت:
(تشریح احادیث 301 سے 311)
تنقل کا معنی ایک جگہ سے دوسری جگ منتقل ہونا یا ایک رائے سے دوسری رائے کی طرف منتقل ہونا ہے، یعنی بار بار اپنی رائے یا قول بدلنا ہے۔
«كما قاله الدارمي» ۔
تنقل کا معنی ایک جگہ سے دوسری جگ منتقل ہونا یا ایک رائے سے دوسری رائے کی طرف منتقل ہونا ہے، یعنی بار بار اپنی رائے یا قول بدلنا ہے۔
«كما قاله الدارمي» ۔