سنن دارمي
من كتاب الفرائض— وراثت کے مسائل کا بیان
باب في مِيرَاثِ الْمُرْتَدِّ: باب: مرتد ہو جانے والے کی میراث کا بیان
حدیث نمبر: 3109
أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ، عَنِ الْحَكَمِ: أَنَّ عَلِيًّا "قَضَى فِي مِيرَاثِ الْمُرْتَدِّ لِأَهْلِهِ مِنْ الْمُسْلِمِينَ".محمد الیاس بن عبدالقادر
حکم سے مروی ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے مرتد کی میراث کا اس کے مسلمان وارثین میں تقسیم کا فیصلہ کیا۔
وضاحت:
(تشریح احادیث 3095 سے 3109)
مرتد خود کسی مسلمان میت کا وارث نہ ہوگا، لیکن اگر وہ مر جائے تو اس کے وارث مسلمان رشتے دار ہوں گے، اور یہ مسئلہ مسلم اور کافر سے مختلف ہے۔
واللہ اعلم۔
مرتد خود کسی مسلمان میت کا وارث نہ ہوگا، لیکن اگر وہ مر جائے تو اس کے وارث مسلمان رشتے دار ہوں گے، اور یہ مسئلہ مسلم اور کافر سے مختلف ہے۔
واللہ اعلم۔