حدیث نمبر: 3102
أَخْبَرَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ الْحَارِثِ الْعُكْلِيِّ: فِي رَجُلٍ أَقَرَّ عِنْدَ مَوْتِهِ بِأَلْفِ دِرْهَمٍ مُضَارَبَةً، وَأَلْفٍ دَيْنًا، وَلَمْ يَدَعْ إِلَّا أَلْفَ دِرْهَمٍ، قَالَ: "يُبْدَأُ بِالدَّيْنِ، فَإِنْ فَضَلَ فَضْلٌ كَانَ لِصَاحِبِ الْمُضَارَبَةِ".
محمد الیاس بن عبدالقادر

حارث عکلی نے کہا: ایک آدمی نے اپنی موت کے وقت ایک ہزار درہم کا مضاربت (تجارت) کے لئے اقرار کیا، اور ایک ہزار قرض کا، اور صرف ایک ہزار درہم چھوڑے؟ انہوں نے کہا: پہلے قرض ادا کیا جائے گا اور اگر اس کے بعد کچھ بچ گیا تو وہ صاحب مضاربت کے لئے (یعنی جس نے تجارت کے لئے درہم دیئے تھے اس کا) ہو گا۔

حوالہ حدیث سنن دارمي / من كتاب الفرائض / حدیث: 3102
درجۂ حدیث تحقیق (حسین سلیم أسد الدارانی): إسناده صحيح إلى الحارث العكلي، [مكتبه الشامله نمبر: 3111]
تخریج حدیث اس روایت کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 11057] ۔ اس اثر کی سند میں ابوعوانہ: وضاح بن عبداللہ اور ابوالنعمان: محمد بن فضل عارم الدوسی ہیں۔