حدیث نمبر: 3100
حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ حَمَّادٍ: "فِي الرَّجُلِ يَكُونُ لَهُ ثَلَاثَةُ بَنِينَ، فَقَالَ: ثُلُثِي لِأَصْغَرِ بَنِيَّ، فَقَالَ الْأَوْسَطُ: أَنَا أُجِيزُ، وَقَالَ الْأَكْبَرُ: أَنَا لَا أُجِيزُ، قَالَ: هِيَ مِنْ تِسْعَةٍ يُخْرِجُ ثَلاثَةً فَلَهُ سَهْمُهُ، وَسَهْمُ الَّذِي أَجَاز" . وَقَالَ حَمَّادٌ: يَرُدُّ السَّهْمَ عَلَيْهِمْ جَمِيعًا، وَقَالَ عَامِرٌ: الَّذِي رَدَّ إِنَّمَا رَدَّ عَلَى نَفْسِهِ.
محمد الیاس بن عبدالقادر

حماد سے مروی ہے: آدمی کے تین بیٹے ہیں، اس نے کہا: میرا ایک ثلث (تہائی) مال سب سے چھوٹے بیٹے کے لئے ہے، بیچ والے لڑکے نے کہا: میری طرف سے اجازت ہے، اور بڑے بیٹے نے کہا: میں نہیں مانتا؟ حماد نے کہا: مسئلہ نو سے ہو گا، اس میں تین (سب سے چھوٹے لڑکے ہوں گے) اس کا حصہ اور جس نے اجازت دی اس کا حصہ ہے۔ اور حماد نے کہا: جو باقی بچا وه سب پر برابر لوٹا دیا جائے گا، اور شعبی رحمہ اللہ نے کہا: جس نے رد کر دیا (گویا) اس نے اپنے سے (اپنا حصہ) رد کر دیا۔

حوالہ حدیث سنن دارمي / من كتاب الفرائض / حدیث: 3100
درجۂ حدیث تحقیق (حسین سلیم أسد الدارانی): إسناده صحيح إلى حماد وهو: ابن أبي سليمان، [مكتبه الشامله نمبر: 3109]
تخریج حدیث حماد: ابن ابی سلیمان ہیں، اور ابوسلیمان کا نام مسلم ہے، ان تک یہ سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 11072] ، [عبدالرزاق 19145]