سنن دارمي
من كتاب الفرائض— وراثت کے مسائل کا بیان
باب مِيرَاثِ الْغَرْقَى: باب: پانی میں ڈوبنے والوں کی میراث کا بیان
حدیث نمبر: 3078
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَتِيقٍ، قَالَ: قَرَأْتُ فِي بَعْضِ كُتُبِ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ فِي الْقَوْمِ يَقَعُ عَلَيْهِمْ الْبَيْتُ، لَا يُدْرَى أَيُّهُمَا مَاتَ قَبْلُ ؟ قَالَ: "لَا يُوَرَّثُ الْأَمْوَاتُ بَعْضُهُمْ مِنْ بَعْضٍ، وَيُوَرَّثُ الْأَحْيَاءُ مِنْ الْأَمْوَاتِ".محمد الیاس بن عبدالقادر
یحییٰ بن عتیق نے کہا: میں نے عمر بن عبدالعزيز رحمہ اللہ کے بعض نوشتوں میں پڑھا ہے: وہ لوگ جن پر گھر گر پڑے اور معلوم نہ ہو سکے کس کی موت پہلے واقع ہوئی اور مرنے والوں میں سے کوئی ایک دوسرے کا وارث نہیں ہو گا، بلکہ مرنے والوں کے وارثین ہی وارث ہوں گے۔