حدیث نمبر: 3066
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ، قَالَ: سَمِعْتُ تَمِيمًا الدَّارِيَّ، يَقُولُ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا السُّنَّةُ فِي الرَّجُلِ مِنْ أَهْلِ الْكُفْرِ يُسْلِمُ عَلَى يَدَيْ رَجُلٍ مِنْ الْمُسْلِمِينَ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "هُوَ أَوْلَى النَّاسِ بِمَحْيَاهُ وَمَمَاتِهِ".
محمد الیاس بن عبدالقادر

سیدنا تمیم الداری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: یا رسول الله! اہل کفر میں سے کوئی شخص کسی مسلمان کے ہاتھ پر مسلمان ہو تو اس کا کیا حکم ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے اس کو مسلمان کیا وہ اس کا زیادہ قریب ہے اس کی زندگی اور موت دونوں حالتوں میں۔“

وضاحت:
(تشریح احادیث 3054 سے 3066)
ظاہر حدیث سے یہ نکلتا ہے کہ اگر نو مسلم کا کوئی وارث نہ ہو تو اس کی میراث کا حق دار وہ شخص ہے جس نے اس کو مسلمان کیا۔
واللہ اعلم۔
حوالہ حدیث سنن دارمي / من كتاب الفرائض / حدیث: 3066
درجۂ حدیث تحقیق (حسین سلیم أسد الدارانی): إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 3076]
تخریج حدیث اس حدیث کی سند بمجموع الطرق صحیح ہے۔ دیکھئے: [بخاري تعليقًا فى الفرائض، باب إذا أسلم على يديه] ، [أبوداؤد 2918] ، [ترمذي 2112] ، [ابن ماجه 2752] ، [أحمد 102/4] ، [أبويعلی 7165]