حدیث نمبر: 3055
أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، حَدَّثَنَا أَشْعَثُ، عَنْ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عُمَرَ، وَعَلِيٍّ، وَزَيْدٍ، قَالَ: وَأَحْسَبُهُ قَدْ ذَكَرَ عَبْدَ اللَّهِ أَيْضًا: أَنَّهُمْ قَالُوا: "الْوَلَاءُ لِلْكُبْرِ . يَعْنُونَ بِالْكُبْرِ: مَا كَانَ أَقْرَبَ بِأَبٍ أَوْ أُمٍّ".
محمد الیاس بن عبدالقادر

شعبی رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ سیدنا عمر، سیدنا علی، سیدنا زید اور میرا خیال ہے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہم سب نے کہا: ولاء (حق وراثت) بڑے کے لئے ہے اور وہ بڑے سے مراد اس کو لیتے تھے جو باپ اور ماں کے سب سے زیادہ قریب ہو۔

حوالہ حدیث سنن دارمي / من كتاب الفرائض / حدیث: 3055
درجۂ حدیث تحقیق (حسین سلیم أسد الدارانی): إسناده ضعيف لضعف أشعث وهو: ابن سوار، [مكتبه الشامله نمبر: 3065]
تخریج حدیث اشعث بن سوار کی وجہ سے اس اثر کی سند ضعیف ہے۔ دیکھئے: [ابن منصور 267] ، [البيهقي 303/10]۔ بیہقی میں ہے: جو باپ سے سب سے زیادہ قریب ہے، ماں کا ذکر نہیں۔