سنن دارمي
من كتاب الفرائض— وراثت کے مسائل کا بیان
باب فِيمَنْ أَعْطَى ذَوِي الأَرْحَامِ دُونَ الْمَوَالِي: باب: ان علمائے کرام کا بیان جو غلام کی وراثت کا مالکان کے علاوہ صرف ذوی الارحام کو حق دار کہتے ہیں
حدیث نمبر: 3054
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ أَبِي الْهَيْثَمِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ: أَنَّ مَوْلَاةً لِإِبْرَاهِيمَ تُوُفِّيَتْ وَتَرَكَتْ مَالًا، فَقُلْتُ لِإِبْرَاهِيمَ، فَقَالَ: "إِنَّ لَهَا ذَا قَرَابَةٍ".محمد الیاس بن عبدالقادر
ابوالہیثم سے مروی ہے کہ ابراہیم کی لونڈی فوت ہو گئی اور بہت مال چھوڑا میں نے ابراہیم کی توجہ اس کی میراث کی طرف مبذول کرائی تو انہوں نے کہا: اس کا قریبی رشتے دار موجود ہے۔
وضاحت:
(تشریح حدیث 3053)
یعنی وہی وارث ہوگا جو قریبی رشتے دار ہے، اور مالک آزاد کرنے والے کے لئے اس میں سے کوئی حق نہیں۔
ابراہیم رحمہ اللہ کی بھی رائے پیچھے گذر چکی ہے جس میں آزاد کرنے والے کو انہوں نے ما بقی من المال کا حق دار قرار دیا، وہی رائے صحیح ہے۔
یعنی وہی وارث ہوگا جو قریبی رشتے دار ہے، اور مالک آزاد کرنے والے کے لئے اس میں سے کوئی حق نہیں۔
ابراہیم رحمہ اللہ کی بھی رائے پیچھے گذر چکی ہے جس میں آزاد کرنے والے کو انہوں نے ما بقی من المال کا حق دار قرار دیا، وہی رائے صحیح ہے۔