حدیث نمبر: 305
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبَّادٍ، قَالَ: قَالَ عَلِيٌّ: "الْفَقِيهُ حَقُّ الْفَقِيهِ الَّذِي لَا يُقَنِّطُ النَّاسَ مِنْ رَحْمَةِ اللَّهِ، وَلَا يُؤَمِّنُهُمْ مِنْ عَذَابِ اللَّهِ، وَلَا يُرَخِّصُ لَهُمْ فِي مَعَاصِي اللَّهِ، إِنَّهُ لَا خَيْرَ فِي عِبَادَةٍ لَا عِلْمَ فِيهَا، وَلَا خَيْرَ فِي عِلْمٍ لَا فَهْمَ فِيهِ، وَلَا خَيْرَ فِي قِرَاءَةٍ لَا تَدَبُّرَ فِيهَا".
محمد الیاس بن عبدالقادر

سیدنا على رضی اللہ عنہ نے فرمایا: حقیقی معنوں میں فقیہ وہ ہے جو لوگوں کو اللہ کی رحمت سے مایوس نہ کرے، اور نہ انہیں اللہ کے عذاب سے مامون قرار دے، اور نہ انہیں اللہ کی نافرمانی کی اجازت دے، جس عبادت میں علم نہ ہو اس میں کوئی بھلائی نہیں، اور جس علم میں فہم نہیں اس میں بھی کوئی بھلائی نہیں، اور جس قرأت میں تدبر نہیں اس میں بھی کوئی خیر نہیں۔

حوالہ حدیث سنن دارمي / مقدمه / حدیث: 305
درجۂ حدیث محدثین: قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده ضعيف
تخریج حدیث تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف، [مكتبه الشامله نمبر: 306]» ¤ اس اثر کی سند بھی ضعیف ہے، جیسا کہ ابھی گزر چکا ہے، اور موقوف بھی ہے، لیکن اس کا شمار اقوال زرین میں ہوسکتا ہے۔