سنن دارمي
مقدمه— مقدمہ
باب مَنْ قَالَ الْعِلْمُ الْخَشْيَةُ وَتَقْوَى اللَّهِ: باب: اس کا بیان کہ علم خشیت اور اللہ کا تقویٰ ہے
حدیث نمبر: 304
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ أَبَانَ، عَنْ يَعْقُوبَ الْقُمِّيِّ، قَالَ: حَدَّثَنِي لَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ، عَنْ يَحْيَى هُوَ ابْنُ عَبَّادٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: "إِنَّ الْفَقِيهَ حَقَّ الْفَقِيهِ، مَنْ لَمْ يُقَنِّطْ النَّاسَ مِنْ رَحْمَةِ اللَّهِ، وَلَمْ يُرَخِّصْ لَهُمْ فِي مَعَاصِي اللَّهِ، وَلَمْ يُؤَمِّنْهُمْ مِنْ عَذَابِ اللَّهِ، وَلَمْ يَدَعْ الْقُرْآنَ رَغْبَةً عَنْهُ إِلَى غَيْرِهِ، إِنَّهُ لَا خَيْرَ فِي عِبَادَةٍ لَا عِلْمَ فِيهَا، وَلَا عِلْمٍ لَا فَهْمَ فِيهِ، وَلَا قِرَاءَةٍ لَا تَدَبُّرَ فِيهَا".محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: صحیح معنوں میں فقیہ وہ ہے جو لوگوں کو اللہ کی رحمت سے مایوس نہ کرے، اور انہیں اللہ کی نافرمانی کی اجازت نہ دے، اور اللہ کے عذاب سے انہیں مامون قرار نہ دے، اور قرآن سے بےرغبتی نہ کرے، یقیناً اس عبادت میں کوئی چیز نہیں جس میں علم و بصیرت نہ ہو، اور جس علم میں فہم نہ ہو، وہ علم ہی نہیں، نہ وہ قراءت قراءت ہے جس میں تدبر (سوچ و فکر) نہ ہو۔