حدیث نمبر: 3038
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا حَسَنٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: "حَدُّ الْمُكَاتَبِ حَدُّ الْمَمْلُوكِ، حَتَّى يُعْتَقَ".محمد الیاس بن عبدالقادر
شعبی رحمہ اللہ نے کہا: مکاتب کی حد مملوک (یعنی پورے غلام) کی حد ہے یہاں تک کہ وہ آزاد کر دیا جائے۔
وضاحت:
(تشریح احادیث 3035 سے 3038)
غلام کی حدِ قذف زنا وغیرہ کی حد میں آزاد کی حد سے آدھی ہے، قياسا على الاماء قرآن پاک میں ہے: «﴿فَعَلَيْهِنَّ نِصْفُ مَا عَلَى الْمُحْصَنَاتِ مِنَ الْعَذَابِ .....﴾ [النساء: 25]»
اس باب میں مذکور آثار سے ثابت ہوا کہ مکاتب میراث کے باب میں مملوک کی طرح ہے جب تک کہ وہ کلی طور پر آزاد نہ ہو جائے، آزاد مرنے والے کا وارث نہ ہوگا۔
غلام کی حدِ قذف زنا وغیرہ کی حد میں آزاد کی حد سے آدھی ہے، قياسا على الاماء قرآن پاک میں ہے: «﴿فَعَلَيْهِنَّ نِصْفُ مَا عَلَى الْمُحْصَنَاتِ مِنَ الْعَذَابِ .....﴾ [النساء: 25]»
اس باب میں مذکور آثار سے ثابت ہوا کہ مکاتب میراث کے باب میں مملوک کی طرح ہے جب تک کہ وہ کلی طور پر آزاد نہ ہو جائے، آزاد مرنے والے کا وارث نہ ہوگا۔