سنن دارمي
من كتاب الفرائض— وراثت کے مسائل کا بیان
باب في مِيرَاثِ أَهْلِ الشِّرْكِ وَأَهْلِ الإِسْلاَمِ: باب: مشرک اور مسلم کی میراث کا بیان
حدیث نمبر: 3032
حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي مَعْشَرٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: "إِذَا مَاتَ الْمَيِّتُ وَجَبَتْ الْحُقُوقُ لِأَهْلِهَا، وَلَمْ يَجْعَلْ لِمَنْ أَسْلَمَ أَوْ أُعْتِقَ قَبْلَ أَنْ يُقْسَمَ الْمِيرَاثُ شَيْئًا".محمد الیاس بن عبدالقادر
ابراہیم رحمہ اللہ نے کہا: جب آدمی مر جائے تو وارث کا حق (وراثت) واجب ہو جاتا ہے، اور جو میراث کی تقسیم سے پہلے مسلمان ہو یا آزاد ہو اس کے لئے میراث میں سے انہوں نے کچھ نہیں رکھا۔
وضاحت:
(تشریح حدیث 3031)
یعنی آدمی کے مرنے کے بعد اس کا وارث جو کا فر تھا، تقسیم سے پہلے اگر مسلمان ہو جائے تب بھی وارث نہ ہوگا، اسی طرح غلام موت کے بعد تقسیم سے پہلے آزاد ہو تو اسے بھی وراثت نہ ملے گی کیوں کہ مرنے والے کی حیات میں وہ اس کے خلافِ مذہب اور مانعِ ارث تھے۔
یعنی آدمی کے مرنے کے بعد اس کا وارث جو کا فر تھا، تقسیم سے پہلے اگر مسلمان ہو جائے تب بھی وارث نہ ہوگا، اسی طرح غلام موت کے بعد تقسیم سے پہلے آزاد ہو تو اسے بھی وراثت نہ ملے گی کیوں کہ مرنے والے کی حیات میں وہ اس کے خلافِ مذہب اور مانعِ ارث تھے۔