حدیث نمبر: 3014
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَالِمٍ، عَنْ الشَّعْبِيِّ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: "الْخَالَةُ بِمَنْزِلَةِ الْأُمِّ، وَالْعَمَّةُ بِمَنْزِلَةِ الْأَبِ، وَبِنْتُ الْأَخِ بِمَنْزِلَةِ الْأَخِ، وَكُلُّ ذِي رَحِمٍ بِمَنْزِلَةِ رَحِمِهِ الَّتِي يُدْلِي بِهَا إِذَا لَمْ يَكُنْ وَارِثٌ ذُو قَرَابَةٍ".
محمد الیاس بن عبدالقادر

مسروق رحمہ اللہ سے مروی ہے: سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: خالہ ماں کے درجے میں ہے، اور پھوپھی باپ کے درجے میں، اور بھتیجی بھائی کے درجہ میں، اور ہر ذی رحم (قرابت دار) اس درجہ میں ہے جو میت سے قریب کا رشتہ دار ہو جب کہ اس کا قریبی وارث نہ ہو۔

وضاحت:
(تشریح احادیث 3009 سے 3014)
ان تمام آثار سے ثابت ہوا کہ خالہ، پھوپھی، ماموں، چچا، بھائی اور بہن کی اولاد میت کے اصل وارث نہ ہونے کی صورت میں اس کے مال کے وارث ہوں گے، اور اس کے مال کو بیت المال میں جمع کرنے کے بعد ذوی الارحام میں ذوی الفروض کی طرح تقسیم کر دیا جائے گا۔
والله اعلم وعلمہ اتم۔
حوالہ حدیث سنن دارمي / من كتاب الفرائض / حدیث: 3014
درجۂ حدیث تحقیق (حسین سلیم أسد الدارانی): إسناده ضعيف لضعف محمد بن سالم، [مكتبه الشامله نمبر: 3024]
تخریج حدیث محمد بن سالم کی وجہ سے اس اثر کی سند ضعیف ہے۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 11165] ، [عبدالرزاق 19115] ، [ابن منصور 155]