حدیث نمبر: 3
أَخْبَرَنَا هَارُونُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سُلَيْمَانَ الْمُؤَدِّبِ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَوْلَايَ: "أَنَّ أَهْلَهُ بَعَثُوا مَعَهُ بِقَدَحٍ فِيهِ زُبْدٌ وَلَبَنٌ إِلَى آلِهَتِهِمْ، قَالَ: فَمَنَعَنِي أَنْ آكُلَ الزُّبْدَ لِمَخَافَتِهَا، قَالَ: فَجَاءَ كَلْبٌ فَأَكَلَ الزُّبْدَ وَشَرِبَ اللَّبَنَ، ثُمَّ بَالَ عَلَى الصَّنَمِ وَهُوَ: أُسَافٌ وَنَائِلَةُ، قَالَ هَارُونُ: كَانَ الرَّجُلُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ إِذَا سَافَرَ، حَمَلَ مَعَهُ أَرْبَعَةَ أَحْجَارٍ: ثَلَاثَةً لِقِدْرِهِ وَالرَّابِعَ يَعْبُدُهُ وَيُرَبِّي كَلْبَهُ، وَيَقْتُلُ وَلَدَهُ".
محمد الیاس بن عبدالقادر

مجاہد سے مروی ہے کہ میرے آزاد کردہ غلام سائب بن ابی سائب نے بیان کیا کہ ان کے گھر والوں نے انہیں دودھ و مکھن کا ایک پیالہ دے کر اپنے بتوں کے پاس بھیجا، سائب نے کہا: بتوں کے خوف نے مجھے مکھن کھانے سے باز رکھا، لیکن ایک کتا آیا اور دودھ و مکھن کو چٹ کر گیا، پھر اساف و نائلہ بتوں پر پیشاب بھی کر گیا۔ راوی ہارون نے کہا: دور جاہلیت میں حالت یہ تھی کہ کوئی آدمی سفر پر جاتا تو اپنے ساتھ (مکہ سے) چار پتھر بھی لے جاتا، تین پتھر چولہا بنانے کے لئے اور چوتھا پتھر پوجا کے لئے، (ان کی حالت یہ تھی) وہ اپنے کتے کی تو پرورش کرتے لیکن اپنی اولاد کو مار ڈالتے تھے۔

حوالہ حدیث سنن دارمي / مقدمه / حدیث: 3
درجۂ حدیث محدثین: قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده حسن
تخریج حدیث تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده حسن، [مكتبه الشامله نمبر: 3]» ¤ اس روایت کی تخریج صرف امام دارمی نے کی ہے اور اس کی سند حسن ہے امام احمد نے اسی سے ملتی جلتی روایت ذکر کی ہے جو صحیح ہے، دیکھئے: [المسند 425/2]۔