حدیث نمبر: 298
أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِي أُسَامَةَ، عَنْ مِسْعَرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ الْأَعْلَى التَّيْمِيَّ، يَقُولُ: "مَنْ أُوتِيَ مِنْ الْعِلْمِ مَا لَا يُبْكِيهِ، لَخَلِيقٌ أَنْ لَا يَكُونَ أُوتِيَ عِلْمًا يَنْفَعُهُ، لِأَنَّ اللَّهَ تَعَالَى نَعَتَ الْعُلَمَاءَ، ثُمَّ قَرَأ: إِنَّ الَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ إِلَى قَوْلِهِ يَبْكُونَ سورة الإسراء آية 107 - 109".
محمد الیاس بن عبدالقادر

مسعر سے روایت ہے: میں نے عبدالأعلىٰ التیمی کو کہتے سنا: جس کسی کو ایسا علم دیا گیا جو اسے رلا نہ سکے، اس کے لئے مناسب ہے کہ اسے ایسا علم ہی نہ ملے جو اسے فائدہ دے، اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے علماء کی تعریف فرمائی ہے، پھر انہوں نے پڑھا: «﴿إِنَّ الَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ (إلي قوله تعالٰي) يَبْكُونَ ....﴾» [الإسراء: 107/17-109] ”بیشک وہ لوگ جنہیں اس سے قبل علم دیا گیا ہے، ان کے پاس جب بھی اس کی تلاوت کی جاتی ہے، تو وہ ٹھوڑیوں کے بل سجدے میں گر پڑتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہمارا رب پاک ہے، ہمارے رب کا وعدہ بلاشبہ پورا ہو کر رہنے والا ہے، وہ اپنی ٹھوڑیوں کے بل روتے ہوئے سجدے میں گر پڑتے ہیں۔“

وضاحت:
(تشریح حدیث 297)
ان آیات کے آخر میں اہلِ علم کی صفت یہ بیان کی کہ وہ روتے ہوئے سجدے میں گر پڑتے ہیں اور یہ ہی محل شاہد ہے۔
حوالہ حدیث سنن دارمي / مقدمه / حدیث: 298
درجۂ حدیث محدثین: قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده جيد
تخریج حدیث تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده جيد، [مكتبه الشامله نمبر: 299]» ¤ اس روایت کی سند جید ہے۔ نیز دیکھئے: [مصنف ابن أبى شيبه 17209] ، [حلية الأولياء 88/5] ، [الزهد لابن المبارك 125]