سنن دارمي
مقدمه— مقدمہ
باب مَنْ قَالَ الْعِلْمُ الْخَشْيَةُ وَتَقْوَى اللَّهِ: باب: اس کا بیان کہ علم خشیت اور اللہ کا تقویٰ ہے
أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِي أُسَامَةَ، عَنْ مِسْعَرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ الْأَعْلَى التَّيْمِيَّ، يَقُولُ: "مَنْ أُوتِيَ مِنْ الْعِلْمِ مَا لَا يُبْكِيهِ، لَخَلِيقٌ أَنْ لَا يَكُونَ أُوتِيَ عِلْمًا يَنْفَعُهُ، لِأَنَّ اللَّهَ تَعَالَى نَعَتَ الْعُلَمَاءَ، ثُمَّ قَرَأ: إِنَّ الَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ إِلَى قَوْلِهِ يَبْكُونَ سورة الإسراء آية 107 - 109".مسعر سے روایت ہے: میں نے عبدالأعلىٰ التیمی کو کہتے سنا: جس کسی کو ایسا علم دیا گیا جو اسے رلا نہ سکے، اس کے لئے مناسب ہے کہ اسے ایسا علم ہی نہ ملے جو اسے فائدہ دے، اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے علماء کی تعریف فرمائی ہے، پھر انہوں نے پڑھا: «﴿إِنَّ الَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ (إلي قوله تعالٰي) يَبْكُونَ ....﴾» [الإسراء: 107/17-109] ”بیشک وہ لوگ جنہیں اس سے قبل علم دیا گیا ہے، ان کے پاس جب بھی اس کی تلاوت کی جاتی ہے، تو وہ ٹھوڑیوں کے بل سجدے میں گر پڑتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہمارا رب پاک ہے، ہمارے رب کا وعدہ بلاشبہ پورا ہو کر رہنے والا ہے، وہ اپنی ٹھوڑیوں کے بل روتے ہوئے سجدے میں گر پڑتے ہیں۔“
ان آیات کے آخر میں اہلِ علم کی صفت یہ بیان کی کہ وہ روتے ہوئے سجدے میں گر پڑتے ہیں اور یہ ہی محل شاہد ہے۔