سنن دارمي
من كتاب الفرائض— وراثت کے مسائل کا بیان
باب قَوْلِ عُمَرَ في الْجَدِّ: باب: دادا کے بارے میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا بیان
حدیث نمبر: 2948
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا حَسَنٌ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: "أَوَّلُ جَدٍّ وَرِثَ فِي الْإِسْلَامِ عُمَر، فَأَخَذَ مَالَهُ، فَأَتَاهُ عَلِيٌّ، وَزَيْدٌ، فَقَالَا: لَيْسَ لَكَ ذَاكَ، إِنَّمَا أَنْتَ كَأَحَدِ الْأَخَوَيْنِ".محمد الیاس بن عبدالقادر
شعبی رحمہ اللہ نے کہا: اسلام میں پہلے دادا جو وارث ہوئے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ انہوں نے اپنا حصہ لے لیا تو سیدنا علی اور سیدنا زید رضی اللہ عنہما ان کے پاس آئے اور کہا کہ ایسے نہیں، آپ بھی دو بھائیوں کی طرح ہیں۔
وضاحت:
(تشریح حدیث 2947)
اگر کوئی میت دادا اور بھائی چھوڑ جائے تو سیدنا عمر، سیدنا عبداللہ و سیدنا زید رضی اللہ عنہم کے نزدیک دادا کو ثلث، باقی ثلثين بھائیوں کے لئے اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے نزدیک سدس دادا کو باقی پانچ اسداس بھائیوں کے لئے۔
اگر کوئی میت دادا اور بھائی چھوڑ جائے تو سیدنا عمر، سیدنا عبداللہ و سیدنا زید رضی اللہ عنہم کے نزدیک دادا کو ثلث، باقی ثلثين بھائیوں کے لئے اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے نزدیک سدس دادا کو باقی پانچ اسداس بھائیوں کے لئے۔