حدیث نمبر: 2933
أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى، عَنْ سَعِيدٍ: أَنَّ عُمَرَ"كَانَ كَتَبَ مِيرَاثَ الْجَدِّ، حَتَّى إِذَا طُعِنَ دَعَا بِهِ فَمَحَاهُ، ثُمّ قَالَ: سَتَرَوْنَ رَأْيَكُمْ فِيهِ".محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے دادا کے میراث پانے کے بارے میں لکھا، لیکن جب وہ نیزے سے زخمی ہوئے تو وہ لکھا ہوا منگایا اور اسے مٹا دیا اور فرمایا: تم لوگ اس بارے میں اپنی رائے سے کام لینا۔
وضاحت:
(تشریح حدیث 2932)
دادا، پوتے، چچا اور بھتیجوں کی وراثت کی تصریح قرآن پاک میں موجود نہیں ہے، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے احادیثِ صحیحہ میں ان کے لئے وراثت میں حصہ داری موجود ہے، اور کئی صورتوں میں دادا کو وراثت میں حصہ ملتا ہے۔
تفصیل كتب الفرائض میں ملاحظہ فرمائیں۔
دادا، پوتے، چچا اور بھتیجوں کی وراثت کی تصریح قرآن پاک میں موجود نہیں ہے، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے احادیثِ صحیحہ میں ان کے لئے وراثت میں حصہ داری موجود ہے، اور کئی صورتوں میں دادا کو وراثت میں حصہ ملتا ہے۔
تفصیل كتب الفرائض میں ملاحظہ فرمائیں۔