سنن دارمي
من كتاب الفرائض— وراثت کے مسائل کا بیان
باب في زَوْجٍ وَأَبَوَيْنِ وَامْرَأَةٍ وَأَبَوَيْنِ: باب: شوہر کے ساتھ ماں باپ ، اور بیوی کے ساتھ ماں باپ کے حصے کا بیان
حدیث نمبر: 2908
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ الْمُسَيَّبِ بْنِ رَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: كَانَ يَقُولُ: "مَا كَانَ اللَّهُ لِيَرَانِي أَنْ أُفَضِّلَ أُمًّا عَلَى أَبٍ".محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے تھے: الله تعالیٰ مجھے نہ دکھائے کہ میں ماں کو باپ پر فوقیت دوں۔
وضاحت:
(تشریح احادیث 2902 سے 2908)
مطلب اس اثر کا یہ ہے کہ مذکورہ بالا مسئلہ میں باپ کو عصبہ ہونے کی وجہ سے دو حصے ملیں گے، اور ماں کو الله تعالیٰ کے مقرر کردہ حصے میں ایک حصہ یعنی ثلث ہی ملے گا، الله تعالیٰ نہ کرے کہ میں ماں کو باپ پر فضیلت دے کر ماں کو زیادہ حصہ دلاؤں، یعنی ماں کو کل مال کا ایک تہائی دینے سے ماں کو دو ملیں گے اور باپ کو ایک حصہ ملے گا۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما یہی کہتے تھے، اس لیے سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے ان کا ردّ کیا۔
والله اعلم۔
مطلب اس اثر کا یہ ہے کہ مذکورہ بالا مسئلہ میں باپ کو عصبہ ہونے کی وجہ سے دو حصے ملیں گے، اور ماں کو الله تعالیٰ کے مقرر کردہ حصے میں ایک حصہ یعنی ثلث ہی ملے گا، الله تعالیٰ نہ کرے کہ میں ماں کو باپ پر فضیلت دے کر ماں کو زیادہ حصہ دلاؤں، یعنی ماں کو کل مال کا ایک تہائی دینے سے ماں کو دو ملیں گے اور باپ کو ایک حصہ ملے گا۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما یہی کہتے تھے، اس لیے سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے ان کا ردّ کیا۔
والله اعلم۔