سنن دارمي
من كتاب الفرائض— وراثت کے مسائل کا بیان
باب في زَوْجٍ وَأَبَوَيْنِ وَامْرَأَةٍ وَأَبَوَيْنِ: باب: شوہر کے ساتھ ماں باپ ، اور بیوی کے ساتھ ماں باپ کے حصے کا بیان
حدیث نمبر: 2900
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ الرِّشْكُ، قَالَ: سَأَلْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ عَنْ رَجُلٍ تَرَكَ امْرَأَتَهُ، وَأَبَوَيْهِ، فَقَالَ: "قَسَّمَهَا زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ مِنْ أَرْبَعَةٍ".محمد الیاس بن عبدالقادر
یزید الرشک نے کہا: میں نے سعید بن المسيب رحمہ اللہ سے پوچھا: آدمی اپنے پیچھے اپنی بیوی اور ماں باپ کو چھوڑے (تو میراث کیسے تقسیم ہوگی ؟) انہوں نے کہا: سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے اس کی تقسیم چار سے کی۔
وضاحت:
(تشریح حدیث 2899)
یعنی یہاں مسلہ چار سے ہوگا، جس میں سے (1/4) ایک چوتھائی بیوی کا، اور باقی تین حصوں میں سے ایک تہائی (1/3) یعنی ایک حصہ ماں کا، باقی دو حصے عصبہ ہونے کی بنا پر باپ کے ہوں گے۔
بیوی . . . . . 1
ماں . . . . . 1
باپ . . . . . 2۔
یعنی یہاں مسلہ چار سے ہوگا، جس میں سے (1/4) ایک چوتھائی بیوی کا، اور باقی تین حصوں میں سے ایک تہائی (1/3) یعنی ایک حصہ ماں کا، باقی دو حصے عصبہ ہونے کی بنا پر باپ کے ہوں گے۔
بیوی . . . . . 1
ماں . . . . . 1
باپ . . . . . 2۔